chahat-poetry لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
 ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے
 ہم نے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھا
 یوں بھی خزاں کا رُوپ سہانا لگا مجھے
 تجھے میرے دلبر بہانہ پڑے گا
 ابھی تو ھر ھر قدم کو اک تھاپ پر دھریں گے
 اب تری شامیں کہاں، کس کی اماں میں ہوں گی
 یہ جسم و روح بھی جلتے ہیں خواب جلتے ہیں
 دل کی تسکین کا اے دوست! حوالہ تَو نہیں ہے
 سامنے سے میرے کترا  کے  گئے  ہیں  ایسے
چھوڑ دو گے ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
 ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں
 رقص کرتی ھوئی،دل میں خوش ادا اتری
سچ تو یہ ہے قصور اپنا ہے