کہیں بے کنار سے رتجگے‘ کہیں زر نگار سے خواب دے ترا کیا اُصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا جواب دے! کبھی یوں بھی ہو ترے رُوبرو‘میں نظر مِلا کے یہ کہہ سکوں ”مری حسرتوں کو شمار کر‘ مری خواہشوں کا حساب دے!“…
یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئنوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے …
اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر جِتنا بُرا سم…
Social Plugin