آنکھ کے آسمان سے نکلا اشک دل کے جہان سے نکلا تیر جب بھی کمان سے نکلا عشق ہی سینہ ٹھان کے نکلا جب جنوں آن بان سے نکلا قیس ہی داستان سے نکلا تیز دھاری میان سے نکلا عشق تاب و توان سے نکلا میں تو لہ…
تیرے انتظار کی ریت پر ۔۔ کوئ لفظ میں نے لکھا نہ تھا۔ کوئ حرف میں نے کہا نہ تھا کوئ خواب میں نے چٌنا نہ تھا اسی انتظار کی ریت پر۔.--؟ میری ارزؤں کے گلاب تھے میری جستجو کے سراب تھے سبھی چاہتوں کے جو…
سنو ! فقط اک انتظار ہے اس جیون میں انتظار جو کبھی ختم نہیں ہوتا عذاب بچھڑنے کے کرب کا معلوم ہے جب انتظار میں ڈھل جاتا ہے تو کس قدر گھٹن زدہ یہ جیون ہو جاتا ہے انتظار کی سولی پہ جو بھی چڑھتا ہے ز…
Social Plugin