Mohsan-naqvi لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
 بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
 میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
اب کے یوں بھی تیری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے
 پَل بھر کو مِل کے اجْرِ شِناسائی دے گیا
 آ جا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا​
 بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
 شامل مِرا دشمن صفِ یاراں میں رہے گا
 زندگی وقفِ خمِ گیسوئے حالات تو ہے
 خواہشوں کے زہر میں اخلاص کا رس گھول کر