Ghazal-shaery لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
 شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
 اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
 خدا سے جو کیا وعدہ اسے مجھ کو نبھانا تھا
 اوڑھ لے پھر کوئی مجھے کمبل کی طرح
 ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں
 ایسا کوئی زندگی سے وعدہ تو نہیں تھا
 لَودے اٹھے وہ حرفِ طلب سوچ رہے ہیں
 سوچتا ہوں کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا
 تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
 نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
 مجھ کو لگا جُنوں کے پَر، عشق سے ہم کلام کر
 تھپکیاں دے کے جو ارمانوں کو بہلاتے ہیں
 ضعف میں بھی رہِ رواں ہوں میں
 جب   سے  قریب   ہو  کے  چلے  زندگی  سے  ہم
 ہر طرف پھیل چکا ہوگا فسانہ میرا
 آگہی نے راستہ بے شک دکھایا ہے میاں
کون خود کو یہ دھر گیا مجھ میں
 عکس عکس،گُماں گُماں،خیال سارے مُسترد
 حیرت نما جہان کے دیوار و در میں تھے