کون خود کو یہ دھر گیا مجھ میں

 غزل


کون خود کو یہ دھر گیا مجھ میں

مثل_ خوشبو اتر گیا مجھ میں


شام ڈھلتے ہی طاقچے کا چراغ

روشنائی سی بھر گیا مجھ میں


میں وہاں پر نہیں ملوں گا اسے

ڈھونڈنے وہ جدھر گیا مجھ میں


میں بھنور میں اترنے والا تھا

ایک دریا اتر گیا مجھ میں


جو مسافر تھا میری منزل کا

بعد مدت کے گھر گیا مجھ میں


کھوجنے پر ہی مجھ کو علم ہوا 

میں تو مدت سے مر گیا مجھ میں


میں امر جس میں ہونے والا تھا

وہ زمانا گزر گیا مجھ میں


اس نے توڑا ہے اس قرینے سے

ایک ملبہ بکھر گیا مجھ میں 


خود کا دشمن ہے اب بنا صائم

جنگ ایسی وہ کر گیا مجھ میں


عابد حسین صائم