جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے اس ایک پل کا تج…
سنا ہے کہ ان سے ملاقات ہوگی اگر ہو گئی تو بڑی بات ہوگی نگاہوں سے شرح حکایات ہوگی زباں چپ رہے گی مگر بات ہوگی مرے اشک جس شب کے دامن میں ہوں گے یقیناً وہ تاروں بھری رات ہوگی سمجھتی ہے شام و سحر جس کو…
یہ نگہتوں کی نرم رَوی، یہ ہوا، یہ رات یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ …
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے غمِ دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئی ہم سے تم…
"شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو، اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو، دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے …
ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے ہمارے بیچ زمانوں کے فاصلے ہوں گے وہ چاہتا تو یہ حالات ٹھیک ہو جاتے بچھڑنے والے سبھی ایسا سوچتے ہوں گے یہ بے بسی سے تری راہ دیکھنے والے گئے دن…
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی ف…
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ منزل سے وہ بھی دور تھا اور ہم بھی دور تھے ہم نے بھی دھو…
ھم کریں بات دلیلوں سے تو رد ھوتی ھے اُس کے ھونٹوں کی خموشی بھی سند ھوتی ھے سانس لیتے ھوئے اِنساں بھی ھے لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ھوئے دِل کی بھی لحد ھوتی ھے اپنی آواز کے پتّھر بھی نہ اُس تک پُہنچے …
کوئی عشق میں مجُھ سے افزوں نہ نکلا کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اِک قطرہء خوں نہ نکلا بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا ہ…
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سوجاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کردیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ …
وہ اجنبی تھا غیر تھا، کسی نے کہا نہ تھا دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی کچھ اس لئے بھی کم نگہی کا گلہ نہ تھا دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگ نقش قدم بھی رنگ حن…
کیسے آئے گا , تیرے خدوخال کا موسم ؟ قِسمتوں میں لکھا ھے ، جب زوال کا موسم کِس نے کھیل کھیلا ھے ، کِس نے ہِجر جھیلا ہے ؟ اب گزر گیا جاناں ، اِس سوال کا موسم کِس طرح سے ممکن تھا ، ایک شاخ پر کِھلتے …
دنیا کو الجھائے رکھنا ٹھیک نہیں دل کے زخم چھپائے رکھنا ٹھیک نہیں صاف صاف کہہ دو جو کچھ بھی ہے دل میں اپنے کو بہلائے رکھنا ٹھیک نہیں نیک دلی کا لقب اٹھاتی ہے دنیا سب کا بوجھ اٹھائے رکھنا ٹھیک نہی…
ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے وہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائے بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے دیا کروں گا یوں ہی تیرے نام کی دستک مرا ن…
اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا خدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہا نہ جانے کون سی اس میں کشش تھی پوشیدہ تمام عمر وہ چہرہ مری نظر میں رہا نہ روک پاؤں گا ہرگز میں تیری رسوائی تو اشک بن کے …
مجھ کو اوقات مری یاد دلانے والے خیر ہو تیری مجھے چھوڑ کے جانے والے سب کو موقع جو دیا باتیں تو ہوں گی ایسی بات کرتے تو نہیں یونہی زمانے والے اپنا کہنا تھا تو پھر اپنا بنایا ہوتا صرف کہتے ہی نہیں ک…
یہ کیا کہ بنے بیٹھے ہو بیزار ہمیشہ چاہت سے مری تجھ کو ہے تکرار ہمیشہ ہمت کی قسم زندگی آزار ہمیشہ طوفاں کو گزرتی ہوں تو منجھدار ہمیشہ معصوم پرندہ ہے وہ کہتے ہیں جسے دل صیاد کی چنگل میں گرفتار ہمیش…
سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں ہم غزل میں بھی ہُنر یار کے رکھ دیتے ہیں ذکرِ جاناں میں___ یہ دنیا کو کہاں لے آئے لوگ کیوں مسٔلے بیکار کے رکھ دیتے ہیں شاید آ جائیں کبھی چشمِ خریدار میں ہ…
چپکے سے کسی روز تو مہمان کیا جائے آجا کہ کبھی پورا یہ ارمان کیا جائے اِک شام تیرے وصل کی دنیا سے چُرا کر یادوں کی گزرگاہوں کو آسان کیا جائے ہونٹوں پہ سدا پیار کی اس نغمہ گری سے سانسوں کو تیرے نام کی…
Social Plugin