Chahat-shaery لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
 سنا ہے کہ ان سے ملاقات ہوگی
 یہ نگہتوں کی نرم رَوی، یہ ہوا، یہ رات
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
 "شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
 ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے
 سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ
 ھم کریں بات دلیلوں سے تو رد ھوتی ھے
کوئی عشق میں مجُھ سے افزوں نہ نکلا
 کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
وہ اجنبی تھا غیر تھا، کسی نے کہا نہ تھا
 کیسے آئے گا , تیرے خدوخال کا موسم ؟
 دنیا کو الجھائے رکھنا ٹھیک نہیں
 ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے
 اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا
 مجھ کو اوقات مری یاد دلانے والے
 یہ کیا کہ بنے بیٹھے ہو بیزار ہمیشہ
 سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں​
 چپکے سے کسی روز تو مہمان کیا جائے