پیکر خاکی میں اک سوز نہاں رہنے دیا قید میں ڈالا مجھے اور بیکراں رہنے دیا ظرف میرا کم تھا کچھ ورنہ خدا کی ذات نے دسترس میں عشق کی سارا جہاں رہنے دیا مجھ سے جب صبح ازل پوچھی گئی مرضی مری لامکاں کو منت…
نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے سوائے داغ ملا کیا چمن میں آ کے مجھے قفس نصیب ہوا آشیاں بنا کے مجھے ادب ہے میں جو جھکائے ہوئے ہوں آنکھ اپنی غضب ہے تم جو …
موجیں بہم ہُوئیں ، تو کِنارہ نہِیں رہا آنکھوں میں کوئی خُواب دوبارہ نہِیں رہا گھر بَچ گیا کہ دور تھے، کچھ صاعقہ مزاج کچھ آســـمان کا بھی اِشارہ نہِیں رہا بُھولا ہے کون ایڑ لگا ک…
ہوئے غرقاب کہ سنگِ وفا زنجیر تھا جاناں تمہارا بے وفا ہونا مری تقدیر تھا جاناں بہت آسان تھا یوں تو بدلنا راستہ ہمدم بکھر کر ٹوٹ کر رویا دلِ دلگیر تھا جاناں فراموشی کی کوشش میں ہمیں کیا کیا نہ یاد آیا…
احوالِ حادثاتِ سفر تم سے کیوں کہوں کیا منزلیں تھی کیا ہے ڈگر تم سے کیوں کہوں چیخیں ہیں کچھ گھُٹی سی ہیں کچھ حرف بے صدا کہنے کو کافی کچھ ہے مگر تم سے کیوں کہوں ہے میرے دل میں کیا یہ مجھے تم بتاؤ…
میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھر دو مرے سینے میں غم الفت کا میں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ گھبرا کے شب فرقت میں آہ بن کر ترے پ…
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑتا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کُھلی آنکھوں سے سپنا دیکھا…
مجھکو اس درد کی گہرائی میں اتر جانے دے کانچ ہوں مجھ کو زمیں پر تو بکھر جانے دے زندہ ہیں جب تک لیتے ہی رہیں گے سانسیں ہم سے لوگوں کو ترے ہجر میں مر جانے دے ایک لاشہ ہوں تری فرقت نے دیئے وہ صدمے در…
اے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاد یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد ہے کیا یاد وہ سُنتے ہیں کب دل سے مری رام کہانی فرماتے ہیں، کچھ اور بھی ہے اسکے سوا یاد؟ بندے سے ہے کیوں پرسشِ اعمال الٰہی؟ انسان کو …
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط وہ اپنے نقشِ پا تو مٹا ک…
بدن کا بوجھ لیے , رُوح کا عذاب لیے کدھر کو جاؤں ، طبیعت کا اِضطراب لیے؟؟ جلا ھی دے نہ مجھے ، یہ جنم جنم کی پیاس ھر ایک راہ کھڑی ھے ، یہاں سَراب لیے یہی اُمید کہ ، شاید ھو کوئی چَشم براہ چراغ دِل م…
دَرپردہ جفاؤں کو، اگر مان گئے ہم تم یہ نہ سمجھنا، کہ بُرا مان گئے ہم اب اور ہی عالم ہے، جہاں کا دلِ ناداں اب ہوش میں آئے تو، میری جان گئے ہم پلکوں پہ لرزتے ہوئے، تارے سے آنسو اے حُسنِ پشیماں، تیرے…
روٹھ گئ ہے مجھ سے محبت میری ناساز ہے کچھ دنوں سے طبیعت میری دو سنوں اور چار سنا سکتا ہوں آڑے آ جاتی ہے بس تربیت میری پلٹ کر نہیں دیکھتا وہ شخص مجھے میرے چہرے سے عیاں ہے وخشیت میری تجھے پا کر بھ…
میرے کمرے میں ﺍُتر آئی خموشی پھر سے سایۂ شامِ غریباں کی طرح شورشِ دیدۂ گریاں کی طرح موسمِ کنجِ بیاباں کی طرح کتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجوم جیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہ جیسے لفظوں کو گہن لگ جائے جیسے…
عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں جن کو …
ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں یاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیں جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب سر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں وجہ رسوائی احساس ہوا ہے کیا کیا ہائے وہ لفظ جو …
اِک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پُوچھئے دو دن کی زندگی کا مزا ، ہم سے پُوچھئے بُھولے ہیں رفتہ رفتہ اُنہیں ، مدتوں میں هم قسطوں میں خُودکشی کا مزا ہم سےپُوچھئے آغازِ عاشقی کا مزا ، آپ جا…
اے دلِ بے قرار! چپ ہو جا جا چکی ہے بہار،چپ ہو جا اب نہ آئیں گے روٹھنے والے دیدۂ اشک بار!چپ ہو جا جا چکا کاروانِ لالہ و گل اڑ رہا ہے غبار، چپ ہو جا چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو روٹھ جاتے ہیں یار، چپ ہو…
اس نے مجھ سے غلط بیانی کی یہ علامت بھی ہے جوانی کی صرف آنکھیں ہی نم نہیں کرتا اور بھی خوبیاں ہیں پانی کی آپ کو نیند آ رہی ہے کیا ابتدا ہے ابھی کہانی کی ہاں چھپا کر تو رک…
لاکھ تقدیر پہ روئے کوئی رونے والا صرف رونے سے تو کچھ بھی نہیں ہونے والا بار غم گل ہے کہ پتھر ہے یہ موقوف اس پر کس سلیقے سے اسے ڈھوتا ہے ڈھونے والا کوئی تدبیر یا تعویذ نہیں کام آتی حادثہ ہوتا ہے…
Social Plugin