ہمیشہ خواب بن کر
خواہشوں کی آنکھ میںہمیشہ خواب بن کر....
خواہشوں کی آنکھ میں تم.....
گم ہی رہتے ہو....
لرزتے سائے کی صورت....
ہمیشہ دسترس سے دور رہتے ہو.....
کبھی تم سامنے آؤ......
تمہیں وہ خوف دکھلاؤں......
کہ جو خوابوں کے اکثر ٹوٹ جانے پر....
کسی کی مردہ آنکھوں سے ٹپکتا ہے.....
تمہیں سمجھاؤں.....
دیواروں سے باتیں کیسے ہوتی ہیں......
کوئی بھی بات جو ہوتی نہیں.....
وہ کس قدر تکلیف دیتی ہے......
بدن کے چاک پر.....
خواہش کی مٹی سے کھلونے کیسے بنتے ہیں.....
جدائی اور تنہائی کے ڈر سے.....
بدن یوں ڈھیر ہوتا ہے....
کہ جیسے بارشوں میں کوئی کچا گھر پگھلتا ہے.....
سنو.......!
جب بھی اداسی قد سے بڑھ جائے.....
تو پستی کا بہت احساس ہوتا ہے.....
مرا وجدان تم کو دیکھ کر ہی....
وجد میں آتا ہے تو.....
میں شعر کہتی ہوں.....
یا خود کو روند دیتی ہوں.....
کبھی تم سامنے آؤ.....
کہ میری چند غزلیں اور نظمیں نامکمل ہیں.....
تمہیں کھونے کے ڈر سے.....
اب تمہیں پانے کی خواہش بھی نہیں دل میں.....
مگر...... پھر بھی کبھی تم سامنے آؤ.......!!
گُل تم.....
گم ہی رہتے ہو....
لرزتے سائے کی صورت....
ہمیشہ دسترس سے دور رہتے ہو.....
کبھی تم سامنے آؤ......
تمہیں وہ خوف دکھلاؤں......
کہ جو خوابوں کے اکثر ٹوٹ جانے پر....
کسی کی مردہ آنکھوں سے ٹپکتا ہے.....
تمہیں سمجھاؤں.....
دیواروں سے باتیں کیسے ہوتی ہیں......
کوئی بھی بات جو ہوتی نہیں.....
وہ کس قدر تکلیف دیتی ہے......
بدن کے چاک پر.....
خواہش کی مٹی سے کھلونے کیسے بنتے ہیں.....
جدائی اور تنہائی کے ڈر سے.....
بدن یوں ڈھیر ہوتا ہے....
کہ جیسے بارشوں میں کوئی کچا گھر پگھلتا ہے.....
سنو.......!
جب بھی اداسی قد سے بڑھ جائے.....
تو پستی کا بہت احساس ہوتا ہے.....
مرا وجدان تم کو دیکھ کر ہی....
وجد میں آتا ہے تو.....
میں شعر کہتی ہوں.....
یا خود کو روند دیتی ہوں.....
کبھی تم سامنے آؤ.....
کہ میری چند غزلیں اور نظمیں نامکمل ہیں.....
تمہیں کھونے کے ڈر سے.....
اب تمہیں پانے کی خواہش بھی نہیں دل میں.....
مگر...... پھر بھی کبھی تم سامنے آؤ.......!!
گُل