چاند چہرے کے اُجالے نہ گئے

 چاند چہرے کے اُجالے نہ گئے

شہر میں تیرے حوالے نہ گئے

اُن کے آنے کی خبر تھی لیکن

جام رندوں سے اُچھالے نہ گئے

جان کر چھوڑی ہے محفل تیری

یونہی جنت سے نکالے نہ گئے

میرے دل پر رکھا جو ہاتھ اُس نے

زخم تو مٹ گئے چھالے نہ گئے

کم سنی میں پڑا دل کا دورہ

 درد اتنے تھے سنبھالے نہ گئے

ہم نے دشمن سے تعلق نہ رکھا

سانپ ہم سے کبھی پالے نہ گئے

راستہ دشمنوں کو کس نے دیا

مورچے ہم سے سنبھالے نہ گئے

جب ہوئی بات وفا کی طاہر

بزم میں تیرے حوالے نہ گئے