آگہی نے راستہ بے شک دکھایا ہے میاں
اس کے شعلے نے مگر دل تو جلایا ہے میاں
روکتی ہی رہ گئی سرحد بقائے ذات کی
ہاں مگر عہد وفا ہم نے نبھایا ہے میاں
یہ اداکاری مری فطرت کا حصہ تو نہیں
یہ تو دنیا نے بہ صد مشکل سکھایا ہے میاں
سردیوں کی دھوپ پل دو پل جھلک دکھلا گئی
یہ مرے ہونے نہ ہونے کا کنایا ہے میاں
کچھ خیال اپنے ہیں لیکن اور کیا ہے میرے پاس
جو مرے ہاتھوں میں ہے وہ بھی پرایا ہے میاں
ہم شکست ذات سے پہلے حسیں ہرگز نہ تھے
اپنے ٹکڑے جوڑ کر خود کو بنایا ہے میاں
عمر بھر آنکھوں نے تکلیفیں اٹھائیں، اس کے بعد
زندگی کو دیکھنے کا ڈھنگ آیا ہے میاں
ہم بہار صبح نو میں مل رہے ہیں، اس لیے
قصہ غم بھی تمھیں ہنس کر سنایا ہے میاں
نمرہ شکیل