ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے
 ہم نے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھا
 یوں بھی خزاں کا رُوپ سہانا لگا مجھے
 ہر ادا ان کی حریف شب تنہائی ہے
قید میں ڈالا مجھے اور بیکراں رہنے دیا
 شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
 اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
 خدا سے جو کیا وعدہ اسے مجھ کو نبھانا تھا
چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا
 نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے
 اوڑھ لے پھر کوئی مجھے کمبل کی طرح
 ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں
 عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
 سنا ہے کہ ان سے ملاقات ہوگی
 موجیں بہم ہُوئیں ، تو کِنارہ نہِیں رہا
 یہ نگہتوں کی نرم رَوی، یہ ہوا، یہ رات
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
 جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
 "شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو