خدا سے جو کیا وعدہ اسے مجھ کو نبھانا تھا
چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا
 نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے
 اوڑھ لے پھر کوئی مجھے کمبل کی طرح
 ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں
 عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں