خدا سے جو کیا وعدہ اسے مجھ کو نبھانا تھا مجھے ہر خواب اپنی آنکھ کو جلتا دکھانا تھا ہمارے شہر میں ہر چاند کو گرہن ضروری ہے مگر یہ راز تم نے سب حسینوں کو بتانا تھا سنا ہر ساز تم نے اس زمانے کا عقیدت س…
چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا ہم نے بھی کیں درو دیوار سے باتیں کیا کیا بات بن آئی ہے پھر سے کہ میرے بارے میں اس نے پوچھیں مرے غمخوار سے باتیں کیا کیا لوگ لب بستہ اگر ہوں تو نکل آتی ہیں چپ…
نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے خدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے سوائے داغ ملا کیا چمن میں آ کے مجھے قفس نصیب ہوا آشیاں بنا کے مجھے ادب ہے میں جو جھکائے ہوئے ہوں آنکھ اپنی غضب ہے تم جو …
اوڑھ لے پھر کوئی مجھے کمبل کی طرح سی دے بخئے ادھڑا ھوں ململ کی طرح سایہ بن کر ہی ٹھہر جا میرے آشیانے پر برس جا مجھ پہ تو کسی بادل کی طرح یا تو جل کر بھسم ھو کسی ویرانے میں یا تو ٹکرا کسی شعلے س…
ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں ابھی زندگی کے بہانے بہت ہیں یہ دنیا حقیقت کی قائل نہیں ہے فسانے سناؤ فسانے بہت ہیں ترے در کے باہر بھی دنیا پڑی ہے کہیں جا رہیں گے ٹھکانے بہت ہیں مرا اک نشیمن جلا بھی تو…
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں فکر دنیا کی مجھے ہو بھ…
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے اس ایک پل کا تج…
Social Plugin