چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا ہم نے بھی کیں درو دیوار سے باتیں کیا کیا بات بن آئی ہے پھر سے کہ میرے بارے میں اس نے پوچھیں مرے غمخوار سے باتیں کیا کیا لوگ لب بستہ اگر ہوں تو نکل آتی ہیں چپ…
جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسان…
مثال دست زلیخا تپاک چاہتا ہے یہ دل بھی دامن یوسف ہے چاک چاہتا ہے دعائیں دو مرے قاتل کو تم کہ شہر کا شہر اسی کے ہاتھ سے ہونا ہلاک چاہتا ہے فسانہ گو بھی کرے کیا کہ ہر کوئی سر بزم مآل قصۂ دل دردن…
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں میں…
جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات دیر تک رو…
Social Plugin