ہر ادا ان کی حریف شب تنہائی ہے وقت حالات کا خاموش تماشائی ہے حسن بے پردہ ہے اور چشم تماشائی ہے آج دنیائے محبت میں بہار آئی ہے اس طرح نظروں سے دل ملتا ہے دل سے نظریں جیسے ان دونوں میں مدت سے شنا…
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے پس پردہ بھی لیلی ہاتھ رک لیتی ہے…
سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ربط ھے اُس کو خراب حالوں سے …
وصل کی رت ہو کہ فرقت کی فضا مجھ سے ہے عشق کی راہ میں سب اچھا. برا مجھ سے ہے یہ حقیقت ہے کہ تجھ سے ہے مرا ہونا مگر بندگی میری ہے سو تو بھی خدا مجھ سے ہے تو تو بس چھوڑ گیا تھا میرے…
دل عشق میں بے پایاں، سودا ہو تو ایسا ہو دریا ہو تو ایسا ہو، صحرا ہو تو ایسا ہو ہم سے نہیں رشتہ بھی، ہم سے نہیں ملتا بھی ہے پاس وہ بیٹھا بھی، دھوکہ ہو تو ایسا ہو دریا بہ حباب اندر، طوفاں بہ سحاب اندر…
Social Plugin