شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا نکالے تھے …
اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے نہ وقارِ دوستی ہے نہ مجالِ دشمنی ہے یہی ظلمتیں چھنیں جو ترے سرخ آنچلوں میں انہی ظلمتوں سے شاید مرے گھر میں روشنی ہے مرے ساتھ تم بھی چلنا مرے ساتھ تم بھی آنا ذرا غم کے…
خدا سے جو کیا وعدہ اسے مجھ کو نبھانا تھا مجھے ہر خواب اپنی آنکھ کو جلتا دکھانا تھا ہمارے شہر میں ہر چاند کو گرہن ضروری ہے مگر یہ راز تم نے سب حسینوں کو بتانا تھا سنا ہر ساز تم نے اس زمانے کا عقیدت س…
اوڑھ لے پھر کوئی مجھے کمبل کی طرح سی دے بخئے ادھڑا ھوں ململ کی طرح سایہ بن کر ہی ٹھہر جا میرے آشیانے پر برس جا مجھ پہ تو کسی بادل کی طرح یا تو جل کر بھسم ھو کسی ویرانے میں یا تو ٹکرا کسی شعلے س…
ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں ابھی زندگی کے بہانے بہت ہیں یہ دنیا حقیقت کی قائل نہیں ہے فسانے سناؤ فسانے بہت ہیں ترے در کے باہر بھی دنیا پڑی ہے کہیں جا رہیں گے ٹھکانے بہت ہیں مرا اک نشیمن جلا بھی تو…
Social Plugin