ہزار خواب لیے جی رہی ہیں سب آنکھیں ترے بنا ہیں مگر میری بے سبب آنکھیں چمکتے چاند ستارو گواہ تم رہنا لگی رہی ہیں فلک سے تمام شب آنکھیں تمہارے سامنے رہتی ہیں نیم وا ہمدم حیا شناس بہت ہیں یہ با اد…
ہوئی تھی ابتدا ان آنکھوں سے جی بھر کے رولایا پھر اور جھکتا تو شرم سے مرتا سر کم ہی جھکایا پھر كمسنی کی اِس محبّت نے ناچ تگنی کا نچایا پھر حُسن سے امان پائی تو دل باتوں میں آگیا پھر خود کو روکنا نا…
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے …
نظر کا تیر ہے دل کے کماں میں رہتا ہے عجیب شخص ہے پیوست جاں میں رہتا ہے وہ آشنا ہے مگر ناشناس پیکر سا یقین ہو کے بھی وہم و گماں میں رہتا ہے دعائیں دیتے ہیں آنسو اسے کہ وہ میرے کبھی فغاں کبھ…
نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اُٹھ گئی ہو گی مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنان…
Social Plugin