Ankhen-shaery لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
 ہزار خواب لیے جی رہی ہیں سب آنکھیں
 ہوئی تھی ابتدا ان آنکھوں سے
 نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
 نظر کا تیر ہے  دل کے کماں میں رہتا ہے
 نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی