بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا حیات اب شام غم کی تشیبہ خود بنے گی تمہاری زلفوں کا استعا…
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو اَنت سمندر چاہے جیسے سورج کی کِرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم …
اب کے یوں بھی تیری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے رنگ پھوٹے کہیں خوشبو کی رسن ٹوٹی ہے موت آئ ہے کہ تسکین کی ساعت آئ سانس ٹوٹی ہے کہ صدیوں کی تھکن ٹوٹی ہے دل شکستہ تو کئ بار ہوآ ہے لیکن اب کے یوں ہے کہ ہر اک شا…
پَل بھر کو مِل کے اجْرِ شِناسائی دے گیا اِک شخص، ایک عُمر کی تنہائی دے گیا آیا تھا شوقِ چارہ گری میں کوئی، مگر کُچھ اور دِل کے زخْم کو گہرائی دے گیا بِچھڑا، تو دوستی کے اثاثے بھی بَٹ گئے شُہرت وہ لے…
آ جا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا آ جا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تری کمی ہے محسن نقوی
Social Plugin