جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے اس ایک پل کا تج…
سنا ہے کہ ان سے ملاقات ہوگی اگر ہو گئی تو بڑی بات ہوگی نگاہوں سے شرح حکایات ہوگی زباں چپ رہے گی مگر بات ہوگی مرے اشک جس شب کے دامن میں ہوں گے یقیناً وہ تاروں بھری رات ہوگی سمجھتی ہے شام و سحر جس کو…
یہ نگہتوں کی نرم رَوی، یہ ہوا، یہ رات یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ …
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے غمِ دنیا سے گھبرا کر تمہیں دل نے پکارا ہے تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئی ہم سے تم…
"شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو، اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو، دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے …
Social Plugin