میں اور تم جو ہم ہو جائیں کیا کہتے ہو
سانجھی خوشیاں غم ہو جائیں کیا کہتے ہو
دنیا ہم کو ایک ہی ٹھاٹھ کی راگ کہے
اور سانسیں سرگم ہو جائیں کیا کہتے ہو
سر اور تال کا ایسا میل ہو جائے بندش میں
ہم نغمے کا سم ہو جائیں کیا کہتے ہو
درد کے مارے ہر چہرے پے رونق ہوگی
جب لہجے مرہم ہو جائیں کیا کہتے ہو
توڑ کر ہم ان اونچی دیواروں کو (امیر)
ایک دوجے میں ضم ہو جائیں کیا کہتے ہو جاناں