تیرے عتاب سے کتنی نباہ کی ہم نے

 تیرے عتاب سے کتنی نباہ کی ہم نے 

نہ کوئی اَشک بہایا، نہ آہ کی ہم نے

تجھے بھی ہم سے شکایت ہے اے دلِ ناداں 

تیرے لیے تو جوانی تباہ کی ہم نے 

عدمؔ ہماری جوانی ہماری دولت تھی

بڑی فراخ دلی سے تباہ کی ہم نے 


عبدالحمید عدم