کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے شب و روز آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیط حسن کرتے تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے وہی چشمۂ بقا تھا جسے سب سراب سمجھے وہی خواب معتب…
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سرِ کاکُل سے م…
Social Plugin