حسن والے کساب ہیں توبہ

 حسن والے کساب ہیں توبہ

چلتے پھرتے شراب ہیں توبہ 


یہ جو سب رہ سراب ہیں توبہ

یہ ہمارے ہی خواب ہیں توبہ

 

میرے باطن سے گفتگو ہے مجھے

ظاہری انقلاب ہیں توبہ 


زندگی امتحاں در امتحاں ہے

کیا سوال و جواب ہیں توبہ 


گل کو بلبل سے آپ کو مجھ سے

کیا نہ کیا کیا  حجاب ہیں توبہ 


گو کہ یہ ناز نخرے ہیں تیرے

میرے دل پر   عذاب ہیں توبہ


جو کسی تن کبھی نہیں برسے

وہ سریلے سحاب ہیں توبہ 


یہ بھنور ہیں یہ حادثے نہیں ہیں

یہ بڑے   کامیاب ہیں توبہ 


جسم جیسے ہے وادئ ٹھنڈک

شکل کے آفتاب ہیں توبہ 


  روشنی ہوں میں ان کی وہ میرے

کچھ نہیں ماہِ تاب ہیں توبہ 


 جن کو ڈر ہے نہ جائیں پہچانے

وہ بدلتی  نقاب ہیں توبہ 


ناک والوں کو خوشبو  آتی ہے 

شعر میرے گلاب ہیں توبہ


کچھ کی آنکھوں میں زہر ہوتا ہے

کچھ کے زہریلے خواب ہیں توبہ 


 کل تو پانی بھی خون جیسا تھا

آج کل خوں بھی آب ہیں توبہ 

 

دل جلے ہیں یہ شب جلے صاحب 

یہ سراسر کباب ہیں توبہ 


یہ   دوانے ہیں میرے شہرو جی

یہ تو میرے جناب ہیں توبہ 


شہرِ حسن