چپ چاپ سُلگتا ہے دِیا، تم بھی تو دیکھو

کس درد کو کہتے ہیں وفا، تم بھی تو دیکھو


مہتاب بَکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے

کچھ دور چلو، آؤ ذرا، تم بھی تو دیکھو


ہر ہنستے ہوئے پھول سے رشتہ ہے خزاں کا

ہر دل میں ہے اک زخم چھپا، تم بھی تو دیکھو