عشق لاثانی و لا فانی ہے
آدمی خاک ذات فانی ہے
جو ترے نور کی نشانی ہے
وہ فرشتوں ہی کی بیانی ہے
حسن سے عشق کی جوانی ہے
یہ جوانی ہی جاودانی ہے
روح لاثانی جسم فانی ہے
خاک نے خاک ہی کمانی ہے
روحِ انسان خلق میں اشرف
آدمی خلق میں لا ثانی ہے
شان مٹی کی جان آدم کی
آب و گِل خاک اور پانی ہے
دشت میں مجھ کو بچپنا ہی سہی
یہ سمندر مری جوانی ہے
کل میں وہ سب کہ جو حقیقت تھی
آج مورکھ وہ سب کہانی ہے
وہ کہ جو گرد سی اٹھی ہے ابھی
یہ بھی کل مٹی میں سمانی ہے
یہ بھی تخلیق ہے زمانے کی
خون سستا ہے مہنگا پانی ہے
جا رے جا دیکھ لی تری یاری
آپ نے آگ ہی لگانی ہے
یہ جو خود میں نہیں ہوں میں شہرو
یہ محبت کی مہربانی ہے
شہرِ حسن