غزل
۔۔۔
جھلک جمال کی سر سے اتارے زنگ مرا
تو آئینہ ہو مجھے دیکھ دیکھ دنگ مرا
۔۔
کشادگی کفِ روزِ محَن سے لے آؤں
جو ہاتھ ہونے کو ہو اک ذرا بھی تنگ مرا
۔۔
کہیں سے دھوپ نکل آئے تیری بارش میں
بچھا ہو ابر سے رنگیلا ہو پلنگ مرا
۔۔
میں جس سلیقے سے تہذیب کرتا ہوں اس کی
کبھی بھی ساتھ نہیں چھوڑتی امنگ مرا
۔۔
جو مجھ میں رہتی ہے شام و سحر دھمال مچی
نہ جانے ناچتا ہے کس گلی ملنگ مرا
۔۔
وگرنہ شام تلک لَو کوئی نہیں ملتی
بدلتا ہے تیری چنری کو دیکھ رنگ مرا
۔۔
اڑاتی ہے مجھے اَن جانی ڈھیل سے ہر دم
شفق سے کھینچتی ہے مہرِ نَو پتنگ مرا
۔۔
ہوا کے چلتے ہی دروازہ کھول دیتی ہے
پڑی ہوئی کسی دیوار میں سرنگ مرا
۔۔
تپِش ڈریعہء اظہار کی نکلتی نہیں
جگا کے رکھتا ہے اندوہِ نام و ننگ مرا
جو کشت و خوں پہ ہی مبنی ہو لازمی تو نہیں
نوید رکھتی ہے حالِ خراب جنگ مرا
۔۔
افضال نوید