بہت ہی۔پیارے بھائی اور عمدہ شاعر امتیازالحق امتیاز کی بے پناہ محبتوں کی نذر
مرا شعور مری ذات میں کچل آئی
پری خیال کی خوابوں سے پھر نکل آئی
مَیں خواہشوں کو ابھی دفن کر کے لوٹا ہوں
یہ کیا کہ پھر سے تری آرزو مچل آئی
گلی میں دھند کے پڑتے ہی میری تنہائی
مجھے لبھانے کو آئی تو بر محل آئی
عجیب شوق ہے اس کو چلن بدلنے کا
دھواں سا بن کے چراغوں کا آج کل آئی
جو تیری یاد میں اک شام شعر اترے تھے
زبان پر ہے اسی شام کی غزل آئی
-- فیصل اکرم گیلانی --