میرے دل کی پکار چپ ہوجا 

یہ سُر و ساز و تار، چپ ہوجا


ان کو اور تم سے پیار چپ ہوجا

لوگ ہیں ہوشیار چپ ہوجا 


آنکھ سے پی وہ رت گئی کب کی

اب کہاں وہ خمار چپ ہوجا 


ذرہ خاموش بھی رہ لے کوے

آ رہا ہے شکار چپ ہوجا 


پھر نئے گل کھلیں گے اے بلبل

آئیں گے دن بہار چپ ہوجا 


دیکھ موسم ہے حُسن کاری کا

گل کھلیں گے ہزار چپ ہوجا 


یہ دو قبریں ہیں لیلیٰ مجنوں کی

پاک ہیں یہ مزار چپ ہوجا 


اے دہکتے ہوئے جنوں میرے

اے بھڑکتے شرار چپ ہوجا 


تو محبت کو کہہ رہا ہے گنہ

تیرے اعلیٰ وچار چپ ہوجا 


میرے پیچھے پڑے ہیں شہرو جی

میرے عزت وقار چپ ہوجا 


شہرِ حسن