چھپائے دل میں غموں کا جہان بیھٹے ہیں

چھپائے دل میں غموں کا جہان بیھٹے ہیں

 چھپائے دل میں غموں کا جہان بیھٹے ہیں

تمہاری بزم میں ہم بے زبان بیٹھے ہیں


یہ اور بات کہ منزل پہ ہم نہ پہنچ سکے

مگر یہ کم ہے کہ راہوں کو چھان بیٹھے ہیں


فغاں ہے درد ہے سوزو فراق و داغ الم

ابھی تو گھر میں بہت مہربان بیٹھے ہیں


اب اور گردش_ تقدیر کیا ستائے گی

لٹا کے عشق میں نام و نشان بیٹھے ہیں


وہ ایک لفظ محبت ہی دل کا دشمن ہے

جسے شعریعت_ احساس مان بیٹھے ہیں


 ساغر صدیقی