غزل
ہم اعتبار-دوست کے مارے ہوئے بھی ہیں
کچھ دن روا روی میں گزارے ہوئے بھی ہیں
ہر چند اس کے لمس سے زنجیر ہیں مگر
لہجے کی تلخیوں کو سہارے ہوئے بھی ہیں
سچ تو یہ ہے کہ دل کے کٹھن مرحلوں سے ہم
گزرے ہوئے تو ہیں پہ گزارے ہوئے بھی ہیں
در پردگی میں جن کی حسیں دھمکیاں بھی تھیں
اس کی طرف سے ایسے اشارے ہوئے بھی ہیں
ایسا نہیں کہ تم سے بچھڑ ہی گئے ہیں ہم
تم سے بچھڑتے وقت تمہارے ہوئے بھی ہیں
دیکھو ہماری آنکھ میں آنسو کوئ نہیں !
دیکھو ہم اہنے بال سنوارے ہوئے بھی ہیں
اس شب ہماری جیت میں غیبی مدد ہی تھی
ورنہ ہم اس سے بارہا ہارے ہوئے بھی ہیں
ایسا سکوت ہے کہ سماعت فرار ہو !
پر ہم محبتوں سے پکارے ہوئے بھی ہیں
تم زندگی کو ٹھیک سے محسوس تو کرو
کچھ مسئلے تمہارے،ہمارے ہوئے بھی ہیں
اس پیرہن کی سلوٹیں با اختیار تھیں
ورنہ ادھر ادھر کے نظارے ہوئے بھی ہیں
محسن اسرار