دل ساز نہ بن جائیں ، لب جام نہ بن جائیں
یہ پیار فزوں ھو کر بدنام نہ ھو جائیں
صرف ایک نظر تیری ، درکار ھے موسم کو
ورنہ یہ گل و غنچہ ، گُلفام نہ ھو جائیں
یہ میری مناجاتیں ، افراطِ عقیدت سے
یارب مجھے کھٹکا ھے اصنام نہ ھو جائیں
تخفیف مراسم میں سرکار کرو لیکن
لوگوں کو جو دعوے ھیں الہام نہ ھو جائیں
اک بنت زلیخا تو ، درپہ ھے ھمارے بھی
یوسف کی طرح ھم بھی ، نیلام نہ ھو جائیں
دیکھا ھی نہیں اُس نے، اس سمت عدمؔ ورنہ
سب زخم نہ بھر جائیں ، سب کام نہ ھو جائیں
عبد الحمّید عدم