کتنے  معصوم  ہیں دکھ  درد اٹھانے والے

یہ سمجھتے ہیں کہ مخلص ہیں زمانے والے


اب مرے قتل پہ چپ چاپ کھڑے ہیں وہ بھی 

جن کا دعویٰ تھا، وہ ہیں جان لُٹانے والے


آج وہ میرے ہی کندھوں پہ چڑھے بیٹھے ہیں 

وہ جو ہوتے تھے مرے قد کو دبانے والے


ضبط پر میرے وہ حیران کھڑے ہیں دیکھو

شہر کے لوگ مجھے زندہ جلانے والے


کیسا بے نام ہے کتبہ یہ مرے مدفن کا 

پھینک کر ایسے گئے ہیں اپنا بنانے والے


دل سے اب بھی میرے ہر دم یہ دعا اُٹھتی ہے

خوش رہیں شمع مرے دل کو جلانے والے


شمع سید