اب کے ساون ٹوٹ کے برسا،لیکن پھر بھی

ہیاس بجھی نہ صحراء کی

میری طرح رستہ آپ بنا،اور چلتا جا

پاگل دل نے بات نہ مانی،ایک سیانے دریا کی

ملنے سے کچھ غم بھی ملتے ہیں،جاناں

اس لئے ہم کم ہی ملتے،ہیں جاناں

جن کے من میں،عشق نے آگ لگائی ھو

ان کے نیناں،نم ہی ملتے ہیں جاناں۔۔۔۔۔سحر