۔

یہ زحمت بھی تو رفتہ رفتہ، رحمت ہو ہی جاتی ہے

مسلسل غم سے غم سہنے، کی عادت ہو ہی جاتی ہے


مسیحا ہو اگر تم سا، ضرورت کیا ہے مرہم کی

کہ کانٹوں سے بھی زخموں کی، جراحت ہو ہی جاتی ہے


تعلق جن سے ہو ُان پر، گلا آیا ہی کرتا ہے

محبّت جن سے ہو ُان سے، شکایت ہو ہی جاتی ہے


ضروری تو نہیں سورج، سوا نیزے پہ ہو محسنؔ

کوئی اپنا بدل جائے، قیامت ہو ہی جاتی ہے ..!!


سید محسنؔ نقوی