اے صنم وصل کی تدبیروں سےکیا ہوتا ہے
وہی. ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
نہیں بچتا نہیں بچتا نہیں بچتا عاشق
پوچھتے کیا ہو شبِ ہجر میں کیا ہوتا ہے
بے اثر نالےنہیں آپ کا ڈر ہے مجھ کو
ابھی کہہ دیجیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
کیوں نہ تشبیہ اسےزلف سے دیں عاشقِ زار
واقعی طولِ شبِ ہجر بلا ہوتا ہے
یوں تکبر نہ کرو ہم بھی ہیں بندے اس کے
سجدےبت کرتے ہیں حامی جو خدا ہوتا ہے
برقؔ افتادہ وہ ہوں سلطنتِ عالم میں
تاجِ سر عجز سے نقشِ کفِ پا ہوتا ہے
مرزا محمد رضا برق