ذرا نہ اس کو ہے دل کہ جسکے بدن میں پیارے جگر نہیں ہے
جگر جنوں ہے جگر ہے جوالہ بن جگر دل مگر نہیں ہے
ہمیں نے ان کو سکھائے تیور ہمیں سے ان کے چمکتے زیور
ہمیں سے ان کو فقط ہے نیور ہمارا ان پر اثر نہیں ہے
ذرا تو کھُل کے کہو بھی عاقل یہ لیلیٰ مجنوں یہ قصہ کیا ہے
پڑھا ہے میں نے سنا ہے میں نے مگر مجھے کچھ خبر نہیں ہے
یہ عقل چیزِ الگ ہے شاید سبھی میں یکساں نہیں ہے عاقل
اگر جو ہے بھی مجھے بتائو یہ عقل چیزِ دگر نہیں ہے ؟
تو اور کیا ہیں مجھے جتائو مجھے سنائو مجھے بتائو
اگر دوانی نہیں ہے لیلیٰ دوانہ مجنوں اگر نہیں ہے
سجایا ہے میں نے تیری خاطر وچن کو اپنے بدن کو اپنے
چمن میں اپنے مگن ہوں تیرے مگر تمہاری نظر نہیں ہے
جہاں سے میٹھا ثمر ہے مجھ کو شکر ہے مجھ کو شکر ہے مجھ کو
محبتوں کی قدر ہے مجھ کو محبتوں سے حذر نہیں ہے
کہاں سے لائوں تری نگاہیں تری ادائیں تری وفائیں
تڑپتی رہتی ہیں میری بانہیں تمہاری کوئی خبر نہیں ہے
ہزاروں شکوے مری زباں پر مگر میں تم سے کروں کہاں پر
بہت ہیں تجھ کو بہانے مجھ سے تجھے تو میری قدر نہیں ہے
قدم سے میرے قدم نہیں تھا اکیلے سر میں چلی ہوں شہرو
گزر چکی ہوں وہاں سے پیارے جہاں کسی کا گزر نہیں ہے
شہرِ حسن