کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت تیری

لب پہ رہ جاتی ہے آ کے شکایت تیری


اب تیرا اے دل بیتاب خدا حافظ ہے

کر چکے ہم تو محبت میں حفاظت تیری


دیکھئے کرتی ہے رسوائے زمانہ کیاکیا

مجھ کو یہ چاہ میری تجھ کو یہ صورت تیری


پوچھتے ہیں وہ میری بات تو یوں پوچھتے ہیں

کہتے ہیں کون ہے تو کیا ہے حقیقت تیری


یاد سب کچھ ہیں مجھے ہجر کے صدمے ظالم

بھول جاتا ہوں مگر دیکھ کے صورت تیری


عدم آباد کو جاتے ہیں بشر خالی ہاتھ

مجھ کو ہے ناز کہ لے جاؤ گا حسرت تیری


یار غمخوار میرے حال کو سب پوچھتے ہیں

اور پھر پوچھ کے سب کہتے ہیں قسمت تیری


ہے رقیبوں کی زبان پر بھی ستم کا شکوہ

تو بھی مجبور ہے جاتی نہیں عادت تیری


کوچہ یار میں بھی جی نہیں لگتا اے داغ

دیکھئے جائے گی کس روز یہ