یہ زمیں، آسمان ہے میرا

میری تربت نشان ہے میرا 


میں مسافر ہوں دور جانا ہے

میرے پیچھے جہان ہے میرا 


آدمی آٹھواں سمندر ہے

مانتی ہوں بیان ہے میرا 


دل وہ دنیا ہے جس کی دھک دھک میں

 یہ دھڑکتا جہان ہے میرا 


میں پکاروں گی تُو سنے گا مجھے

 تجھ پہ کامل گمان ہے میرا 


مجھ کو پرواز عالمِ کُل ہے

عشق اعلیٰ اڑان ہے میرا 


میں سمندر ہوں دھیان ہے تیرا 

تُو سمندر گمان ہے میرا 


یہ جو میں جی میں اپنے دیکھوں ہوں

پار سورج کے دھیان ہے میرا 


 میری مٹی میں جان ہے مجھ کو

آگ پانی تو چھان ہے میرا 


میں تو گلدان میں کھلی ہوں مگر

یہ بدن خاکدان ہے میرا 


گو اکیلی ہوں میں مگر شہرو

ساتھ میں خاندان ہے میرا 


شہرِ حسن