دشت میں ہجر کے میزان کی تشکیل بھی ہو

درد قائم بھی رہے، اور کبھی تحلیل بھی ہو


کون کہتا ہے کہ ہر حکم کی تعمیل بھی ہو

کیا ضروری ہے کہ وعدہ بھی ہو ،تکمیل بھی ہو؟


آنکھ ہی آنکھ میں کرتے ہیں اشارہ اکثر

کیا ہی اچھا ہو اگر ساتھ میں تفصیل بھی ہو


اس فسانے میں لکھو سارے حسیں وعدوں کو

اور وعدے سے مکر جانے کی تاویل بھی ہو


تم مری آنکھ میں رہتے ہو مسلسل لیکن

اچھا ہوتا ہے کہ منظر کبھی تبدیل بھی ہو


میرے احساس میں زندہ ہے سراپا جس کا

کاسۂ خاک میں اس شخص کی تشکیل بھی ہو 


بھاگتے پھرتے ہیں سانسوں کا بھرم رکھنے کو

فکرِ دوراں میں کسی روز کی تعطیل بھی ہو


نیند آئے تو فقط نرم سا تکیہ ہی نہیں 

آنکھ میں خواب کے امکان کی قندیل بھی ہو


نامہ بر آج سنے بات بھری محفل میں

لطف آ جائے جو قرآن ہو، جبریل بھی ہو


حرف و معنی کا سفر ہے تو ضروری ہو گا

ہاتھ میں فکر کے سامان کی زنبیل بھی ہو


معجزہ علم کا ہوتا ہے جنوں میں نیلمؔ

اُس کو لازم ہے کہ صورت بھی ہو، تمثیل بھی ہو


نیلم بھٹی