وقت کی دھوپ میں ارمان جلا دیتے ہیں 

اک حقیقت سے سبھی خواب مٹا دیتے ہیں!!!


بات اک بات کا افسانہ بنا دے دنیا 

وہ مری بات کا مفہوم جدا دیتے ہیں!!!


لفظ کی راہ میں حائل ہوئے ہیں گر آنسو 

درد کی شدتوں کو لب پہ ہنسا دیتے ہیں!!!


سوزِ غم کا نہیں کرتا ہے مداوا کوئی 

چارہ گر درد ہمارا تو بڑھا دیتے ہیں!!! 


وقت کے ہارے ہوئے خواب بھلا کر سارے 

زندگی رنجِ تمنا میں گنوا دیتے ہیں!!!


دھرتے اغیار پہ الزام صنم نا حق ہم 

کچھ ہیں احباب جو رنجش کو ہوا دیتے ہیں !!!