دوستوں نے کنارہ کر لیا ہے 

دشمنوں نے اشارہ کر لیا ہے 


زندگی مجھ میں ناں میں زندگی میں 

تیرے بن جی گزارا کر لیا ہے 


بے وفا تجھ سے میں نبھا کر کے

زندگی کا خسارہ کر لیا ہے 


خلوتِ جاں میں تیری محفل ہے

میں نے دل کا سہارہ کر لیا ہے 


 تو مرے واسطے نہیں نہ سہی 

میں نے خود کو تمہارا کر لیا ہے 


دوسری بار بھی تمہاری ہوں

عشق میں نے دوبارہ کر لیا ہے 


تیرے غم ہی لگے مرے سینے

دردِ دل کا میں چارہ کر لیا ہے  


اے تری یاد کے بہت سم ہیں

 دل کو میں پارہ پارہ کر لیا ہے 


 دو گرا اشک اپنے ملبے پر

    میں نے خود کو دوبارہ کر لیا ہے


 دیکھ کے غیر پاس میں تجھ کو

میں نے دوزخ نظارہ کر لیا ہے


عشق میں اشک جوں گرا شہرو

کہکشاں میں ستارہ کر لیا ہے 


شہرِ حسن