خوشبو جیسے لوگ ہیں ہم
بس بکھرے بکھرے رہتے ہیں
ہم پھولوں کے سوداگر ہیں
اور سودا سچا کرتے ہیں
جو گاھک پھولوں جیسا
ہو ہم بن داموں بک جاتے ہیں،
ہم شہرِ وفا کے لوگوں کا
حال بھلا تم کیا جانو
ہم دل کی بات چھپاتے ہیں
اور آنسو تک پی جاتے ہیں
خوشبو جیسے لوگ ہیں ہم
بس بکھرے بکھرے رہتے ہیں
ہم پھولوں کے سوداگر ہیں
اور سودا سچا کرتے ہیں
جو گاھک پھولوں جیسا
ہو ہم بن داموں بک جاتے ہیں،
ہم شہرِ وفا کے لوگوں کا
حال بھلا تم کیا جانو
ہم دل کی بات چھپاتے ہیں
اور آنسو تک پی جاتے ہیں