میرے دل پر ترا قدم ہی سہی 

تیرے قدموں میں سر یہ خم ہی سہی  


میرے دل پر ترے ستم ہی سہی 

پاس میرے تمہارے غم ہی سہی 


تیرنے والے تیر جاتے ہیں 

جوش دریا کے، دل کے غم ہی سہی 


مجھ کو محنت ہے مشکلوں سے کڑی 

تیری زلفوں کے پیچ و خم ہی سہی 


عشق باقی ہے آدمی فانی 

میرا ہونا مجھے عدم ہی سہی 


دوستوں نے تو کر دیا تنہا

 دشمناں ایک میرے تم ہی سہی 


عشق گھٹتا نہیں گھٹانے سے 

عشق بڑھتا ہے کرم کم ہی سہی 


سینکڑوں بت رکھے تھے کعبہ میں 

میرے دل میں مرا صنم ہی سہی  


وقت صاحب جی تیزرو ہے بڑا

وقت کے ساتھ اک قدم ہی سہی

 

توڑ ڈالوں گی شہرو تلواریں

یہ مرے ہاتھ میں قلم ہی سہی 


شہرِ حسن