تازہ غزل کے اشعار 💞
سینے میں کوئی درد مسلسل نہیں رہا
میں عشق میں ذیادہ مقفل نہیں رہا
مجھ کو بھی عمر _رائگاں کے جھگڑے کھا گئے
اس کے بھی گیسوؤں میں، کوئی بل نہیں رہا
اے یار تیرے بعد عجب حال ہے مرا
کہ شب گزر نہیں رہی، دن ڈھل نہیں رہا
دنیا ترے جھمیلوں میں آکر مجھے لگا
اندر سے کوئی شخص مکمل نہیں رہا
تالاب ایک ہنس سے ہے محوۓِ گفتگو
اتنی اداس شب میں! تو گھر چل نہیں رہا؟
ورنہ یہ لفظ معنی تو رکھتا نہیں تھا کچھ
تیری زباں سے نکلا تو مہمل نہیں رہا
ماضی کے آئینے میں ذرا جھانک اور دیکھ
جھگڑا کبھی بھی مسئلوں کا حل نہیں رہا
فقیر عثمانی ❤