تصور کی حدوں سے بڑھ گیا ، ذوقِ نظر اپنا

کہ دھوکا ھو گیا اکثر ، تیری تصویر پر اپنا


وہ ذلفیں خواب میں ہم دیکھ کر جاتےتو یہ دیکھا

کہ اِک تقدیر پر ھے ہاتھ ، اک زنجیر پر اپنا


بحمدللہ کہ اُنکے دَر پہ نکلی جان سجدے میں

جو ڈوبا بھی تو بیڑا ، ساحلِ مقصود پر اپنا


جلا کر خرمنِ ہستی کو، اُنکی دید کر اے دل

تماشا آج تو بھی دیکھ لے گھر پھونک کر اپنا


فلک پر ڈھونڈتےہیں ہم وہ ایمن پر چمکتی ھے

یہ معیارِ تجلی ھے ، وہ معیارِ نظر اپنا


 *( سید بیدم وارثی )*