یاد آؤں تو بس اتنی سی عنایت کرنا

اپنے بَدلے ہوئے لہجے کی وِضاحت کرنا


تُم تو چاہت کا شَاھکار ھوا کرتے تھے!!

کِس سے سیکھا ھے اُلفت میں ملاوٹ کرنا


ھم سزاٶں کے حقدار بنے ھیں کب سے

تم ہی کہہ دو کہ جرم ھے کیا محبت کرنا


تیری فرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ھیں

کبھی آنا تم میری آنکھوں کی زیارت کرنا۔ گُل