اڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں

ھم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں


تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو

ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں


اک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو

ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں


دنیا کے لیےٴ کچھ بھی سہی تیرے لیےٴ ہم

مخلص صدا ماوٴں کی دعاوٴں کی طرح ہیں


تاریخ کی نظروں میں ھم اک عمر سے محسن

اسکول سے بھاگے ہوئے بچوں کی طرح ہیں 


مُحسن نقوی