زندگی کی راہوں میں تم ہو جلوہ گر تنہا
ظلمتیں ہیں ہر جانب شمع رہ گزر تنہا
شمع کی طرح ہم نے جل کے تا سحر تنہا
زیست کے اندھیروں میں طے کیا سفر تنہا
دن گزار دیتا ہوں ہنس کے بزم رنداں میں
زندگی پہ روتا ہوں شب کو جاگ کر تنہا
ساتھ سب نبھاتے ہیں راہ میں مسرت کی
طے سبھی کو کرنی ہے غم کی رہ گزر تنہا
کس قدر پریشاں ہیں اہل عشق دنیا میں
مجھ پہ رشک کرتے ہیں مجھ کو دیکھ کر تنہا
راز عشق دنیا میں کب کسی نے سمجھا ہے
ایک تم نہیں یکتاؔ اس سے بے خبر تنہا
پرمود لعل یکتا