دیکھو یہ دل لگی کہ سر رہ گزار حسن

اک اک سے پوچھتا ہوں مرا دل کدھر گیا


اے چارہ گر سنا مرے تیغ آزاما کی خبر

اب درد سر کی فکر نہ کر درد سر گیا


اے میرے رونے والو خدارا جواب دو

وہ بار بار پوچھتے ہیں کون مر گیا


شاید سمجھ گیا مرے طول مرض کا راز 

اب چارہ گر نہ آئے گا اب چارہ گر گیا 


حفیؔظ جالندھری